بنگلورو،18/جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کرناٹک کے وزیر اعلی ایچ ڈی کمارسوامی منگل کو خود کشی کرنے والے کسان کے گھر پہنچے۔یہ کسان نے پانی کی کمی کی وجہ سے خود کشی کر لی تھی۔خود کشی کرنے سے پہلے اس نے سی ایم کمارسوامی کو ایک ویڈیو میسج بھیجا تھا۔سی ایم نے کسان کے خاندان سے ملاقات کرنے کے بعد انہیں 5 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔شدید گرمی کی وجہ سے ملک کے کئی حصوں میں کسانوں کے لئے مشکل صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔مہاراشٹر اور کرناٹک جیسی ریاست میں کئی علاقوں میں خشک جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔کرناٹک کے وزیر اعلی کمارسوامی منگل کو جس خود کشی کرنے والے کسان کے گھر پہنچے اس نے پانی کی کمی کی وجہ سے ہی اتنا سخت قدم اٹھایا تھا۔متوفی کسان خاندان سے ملنے کے بعد کمارسوامی نے کہاکہ میں کسان سریش کی موت سے بہت دکھی ہوں۔انہوں نے اپنے علاقے میں واقع جھیل کو پانی سے بھرنے کی مانگ کی تھی،میں کسانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس طرح کے قدم نہ اٹھائیں، اگلے ہفتے سے افسر دیہات میں جائیں گے، وہاں ٹھہریں گے اور کسانوں سے ان کے مسائل سنیں گے تاکہ ان کے مسائل کو حل نکالا جا سکے۔بہرہال ادھر ہندوستان میں گرمی کے غضب اور پانی کی کمی نے ایسے حالات پیدا کر دئے ہیں کہ ایک شخص نے 3 بیٹیوں کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی سے خود کشی کرنے کی اجازت مانگی ہے۔اتر پردیش کے ہاتھرس کے اس شخص نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کر خود کشی کرنے کی اجازت مانگی کیونکہ انہیں پینے کے لئے ایک بوند بھی پانی نہیں مل رہاہے۔ہاتھرس ضلع کے ہاسیان بلاک میں ایک کسان چندرپال سنگھ علاقے میں نمکین پانی آنے کی شکایت کرنے کے لئے کئی دنوں سے سرکاری حکام کے چکر لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم یہ پانی نہیں پی سکتے،میری بیٹیاں جب بھی یہ پانی پیتی ہیں، انہیں قے ہو جاتی ہے،پانی میں انتہائی نمک کی وجہ سے فصلیں بھی تباہ ہو رہی ہیں،اپنے خاندان کو بوتل بند پانی پلانے کی میری حیثیت نہیں ہے،میری گزارشوں سے حکام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی اور اب میں نے وزیر اعظم سے اپنی اور اپنی نابالغ بیٹیوں کی زندگی ختم کرنے کی اجازت مانگی ہے۔